(22) بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہوئے لکھنے کا آغاز فرمادیں۔
(23) لکھنے کے دوران اپنے ارد گرد تشریف فرماہونے والے اسلامی بھائیوں سے نہ توکسی قسم کی گفتگو کریں اور نہ ہی کسی شے کا لین دین کریں کہ ایسا کرنے کی صورت میں آپ ممتحن کی نگاہ میں مشکوک قرار پائیں گے اور وقت الگ سے ضائع ہوگا ۔
(24) جوابی کاپی میں سوالیہ عبارت لکھنے کی بجائے سوال کا نمبر دے کر جواب لکھنے کا آغازفرما دیں۔اگر کوئی سوال ایسا ہو جسے جوابی کاپی پر نقل کرنا ضروری ہو تو حرج نہیں۔
(25) لکھے گئے جوابات کے الفاظ نہ تو اتنے تنگ تنگ ہوں کہ مفتش (Checker) کوپڑھنے میں دقت پیش آئے اور نہ ہی اتنے بڑے کہ نامناسب دکھائی دیں۔
(26) جتنا ممکن ہوسکے عنوانات قائم کر کے جوابات لکھیں کہ اس سے مفتش پر اچھا اثر مترتب ہوتا ہے ۔مثلاً
نواقض ِ وضو: درجِ ذیل صورتوں میں وضو ٹوٹ جاتا ہے ،۔۔۔۔۔۔الخ
(27) جو سوالات دو یا اس سے زائد اجزاء (Parts)پر مشتمل ہوں ان کے تمام اجزاء کے جوابات یکے بعد دیگرے ایک ساتھ ہی لکھیں ، ایسا نہ ہو کہ سوال نمبر ۲ کا پہلاجز حل کرنے کے بعد دوسرا جز چند دوسرے سوالات کے بعد لکھ دیا جائے ۔
(28) سوال میں جوبات پوچھی گئی ہو اسی کاجواب لکھیں اور غیر ضروری تفصیل سے پرہیز کریں کہ وقت کی تنگی کا سامنا ہوسکتا ہے ۔