Brailvi Books

امتحان کی تیاری کیسے کریں؟
23 - 33
چھو کر جھلس جاتے لیکن مطالعہ میں مگن ہونے کی وجہ سے پتہ نہ چلتا ۔''

(اشعۃ اللمعات،جلد اول ،مقدمہ ، ص۷۲،مطبوعہ فرید بک اسٹال لاہور)

    (5)امام اہل سنت مجدد ِ دین وملت الشاہ مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کے شوقِ مطالعہ اور ذہانت کا بچپن ہی میں یہ عالم تھا کہ استاذسے کبھی چوتھائی کتاب سے زیادہ نہیں پڑھی بلکہ چوتھائی کتاب استاذسے پڑھنے کے بعد بقیہ تمام کتاب کا خود مطالعہ کرتے اور یاد کر کے سنا دیا کرتے تھے ۔(حیات اعلیٰ حضرت ،ج ۱،ص۷۰،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

    اسی طرح دو جلدوں پر مشتمل عقود الدریہ جیسی ضخیم کتاب فقط ایک رات میں مطالعہ فرمالی ۔(حیاتِ اعلیٰ حضرت ،ج۱،ص۲۱۳)

    (6) محدث ِ اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد علیہ الرحمۃ کو مطالعے کا اتنا شوق تھا کہ مسجد میں نمازِ باجماعت میں کچھ تاخیر ہوتی تو کسی کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کر دیتے۔ جب آپ منظر الاسلام بریلی شریف میں زیر ِ تعلیم تھے تو ساتھی طلباء کے سوجانے کے بعد بھی محلہ سوداگران میں لگی لالٹین کی روشنی میں اپناسبق یاد کیا کرتے تھے۔ آپ کے اساتذہ کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپ کے کمرے میں لالٹین کا بندوبست کردیا ۔(سیرتِ صدرالشریعہ، ص۲۰۱،مطبوعہ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور)

    (7) بانی  دعوتِ اسلامی ،شیخ طریقت امیرِ اہلِ سنت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی اس قدر منہمک ہوکر مطالعہ فرماتے ہیں کہ بارہا ایسا ہوا کہ کتاب گھر کے اسلامی بھائیوں میں سے کوئی اسلامی بھائی کسی مسئلے کے حل کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن مطالعے میں مصروف ہونے کی بناء پر آپ کو اس کی آمد کی خبر نہ ہوئی اور کچھ دیر بعد اتفاقاً نگاہ اٹھائی تو اس اسلامی بھائی نے اپنا مسئلہ عرض