| امتحان کی تیاری کیسے کریں؟ |
لکھ کر دہرا لینے کے بعدکسی دوسرے اسلامی بھائی کو زبانی سنا کر محفوظ ترین بنا لیجئے کہ ایک دوسرے کو سنا کر یاد کرنا صحابہ کرام علیھم الرضوان کی سنت بھی ہے جیسا کہ ۔۔۔۔۔۔
(۱)حضرت سیدناانس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ رسولِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے ارشادات سنتے تھے ۔ پھر جب مدنی آقا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مجلس سے تشریف لے جاتے تو ہم لوگ آپس میں (آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبان ِ اقدس سے نکلنے والے ارشادات کا ) دَور کرتے ۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا کہ ایک شخص کل حدیثیں بیان کرتا اور سب سنتے پھر دوسرا، اس کے بعد تیسرا حتی کہ سب باری باری سناتے ۔ کبھی کبھی ساٹھ ساٹھ آدمی بھی مجلس میں ہوتے تھے ۔ جب ہم وہاں سے اٹھتے تو حدیثیں ہمیں اس طرح یاد ہوتیں کہ گویا ہمارے دلوں میں بو دی گئی ہیں ۔(مجمع الزوائد ،کتاب العلم ،ج۱،ص۳۹۷،رقم الحدیث:۷۳۴،مطبوعۃ دارالفکر بیروت)
(۲)حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام علیھم الرضوان فرض نمازوں کے بعد مسجد نبوی میں بیٹھ کر قرآن وحدیث کا مذاکرہ کیا کرتے (یعنی ایک دوسرے کو سنایا کرتے تھے)۔
(المستدرک علی الصحیحین ،کتاب العلم ،ج۱، ص۲۸۵،رقم الحدیث:۳۲۶،مطبوعۃ دارالمعرفۃ بیروت)
(۳) حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ اپنے اصحاب سے فرمایا کرتے ''احادیث ایک دوسرے سے بیان کرتے رہا کرو ،اگر تم ایسا نہ کرو گے تو چلی جائیں گی ۔''
(المستدرک علی الصحیحین ،کتاب العلم ،ج۱، ص۲۸۶،رقم الحدیث:۳۲۹،مطبوعۃ دارالمعرفۃ بیروت)
(۴)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بھی اس بات کی تاکیدفرمایا کرتے تھے کہ ''حدیثیں ایک دوسرے سے سنتے اور سناتے رہا کرو ،اسی طرح یہ باقی(یعنی یاد) رہ سکتی