وقت پڑھتے رہنے کی بناء پر اتنے کمزور ہوجائیں کہ ادھر ذرا سی سرد ہوا چلی ادھر حضرت کو زکام اور بخار نے آن گھیرا ، ۔۔۔۔۔۔اور نہ ہی اتنا وزن بڑھا لیں کہ نیند اور سستی سے دامن چھڑانا دشوار ہوجائے ۔
(۶)حافظے کی مضبوطی کے لئے اپنے معالج کے مشورے سے دوائی کا استعمال بھی کریں اس کے لئے خمیرہ گاؤزبان کا استعمال بہت مفید ہے ۔
(۷) ذہن کو آرام دینے کی غرض سے مناسب مقدار میں (مثلاً ۲۴ گھنٹوں میں ۶ سے ۸ گھنٹے )نیند ضرور لیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پہلے پہل توپڑھائی کے جوش میں نیند کو فراموش کر بیٹھیں لیکن چند دنوں کے بعد تھکاوٹ کا احساس آپ کے دل ودماغ کو ایسا گھیرے کہ تھوڑی سی دیر پڑھنے کے بعد ذہن پر غنودگی چھانے لگے اورآپ نیند کی آغوش میں جاپڑیں۔ نیند کے بعد مکمل طور پر تازہ دم(Fresh) ہونے کے لئے حصول ِ ثواب کی نیت سے باوضو سونے کی عادت بنائیں اور سونے سے پہلے تسبیح فاطمہ رضی اللہ عنہا (یعنی ۳۳مرتبہ سبحان اللہ ، ۳۳ مرتبہ الحمدللہ اور ۳۴ مرتبہ اللہ اکبر )پڑھ لیں ۔اگر آرام کرنے کے بعد بھی پڑھائی کے دوران نیند کا غلبہ ہونے کی شکایت ہوتوروزانہ لیموں ملے ایک گلاس پانی میں ایک چمچ شہد ملا کر پی لینا بے حد مفید ہے جیسا کہ شیخ ِ طریقت امیرِ اہل سنت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی فرماتے ہیں کہ ''خلاف ِ معمول نیند کا آنا جگر کی کمزوری پر دال (دلالت کرتا) ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ لیموں والے پانی میں شہد کا ایک چمچ نہار منہ استعمال کریں۔''(مدنی مذاکرہ :کیسٹ نمبر ۱۲۴)
(۸) اپنے اساتذہ اور پیر ومرشد کا احترام اپنی عادات میں شامل کر لیں اور ان کے فیوض وبرکات حاصل کریں ۔