Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
42 - 44
حاضرین میں حضرتِ داؤد طائی،حضرتِ عا فیہ اودی، حضرتِ قاسم بن معن مسعودی، حضرتِ حفص بن غیاث نخعی، حضرتِ وکیع بن جراح، حضرتِ مالک بن مغول،حضرتِ زفر بن ہُذَیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وغیرہ شامل تھے۔''آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہماری طرف متو جہ ہوئے اور فرمایا: 

(1)۔۔۔۔۔۔تمہیں دیکھ کر میرا دل خوش ہوتا اور غم دُورہوتے ہیں۔ میں نے تمہارے لئے فقہ کو زِین اور لگام دی ہے کہ جب چاہو سواری کرو اور تمہاری ایسی علمی وعملی تربیت کی ہے کہ لوگ تمہاری پیروی کریں گے، تمہارے الفا ظ تلاش کریں گے۔میں نے لوگو ں کی گردنیں تمہارے آگے جھکا دی ہیں۔ تم میں سے ہرایک قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہے اور دس توایسے ہیں کہ وہ قاضیوں کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کی عطاکردہ علمی جلالت کا واسطہ دیتا ہوں کہ علمِ دین کو دُنیوی حکومت اورمال ودولت کے حصول کاذریعہ بناکراس کی قدر وقیمت کو کم نہ کردینا۔
قاضیوں کے لئے ہدایات:
 (2)۔۔۔۔۔۔اگر تم میں سے کسی پر قضاء کی ذمہ داری آن پڑے اوراپنے اندر کوئی ایسی خامی پا ئے جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے لوگو ں سے چھپا رکھا ہو تو اس کا قاضی بننا اور اِس کی تنخواہ لینا جائزنہیں اوراگر تم میں سے کسی کو ضرو رتاً قاضی بنناپڑے تو اپنے اور لوگوں کے درمیان
Flag Counter