Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
41 - 44
 (7)۔۔۔۔۔۔کسی گواہ کو (کسی دلیل کی) تلقین نہ کرنا،نہ مجلسِ قضاء میں کسی کو کوئی اشارہ کرنا اور نہ ہی قضاء کے امور اپنے کسی قرابت دار کے سپرد کرنا۔

(8)۔۔۔۔۔۔ کسی کی دعوت قبول نہ کرناورنہ تجھے تہمت لگے گی۔ 

(9)۔۔۔۔۔۔عدالت میں کسی سے (غیر ضروری)بات چیت نہ کرنا۔

(10)۔۔۔۔۔۔خوفِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ کو ہرچیز پر فوقیت دیناکہ یہ بات تمہیں دنیا وآخرت کے معاملات میں کافی ہوگی اور اس کی برکت سے غلط فیصلہ کرنے سے سلامتی نصیب ہو گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اور تمہیں پاکیزہ زندگی اورآخرت میں باعزت مقام عطا فرمائے ۔ (آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم)
     (مناقبِ امامِ اعظم، الجزء الثانی، کتاب الامام الٰی ابی عصمۃ نوح بن ابی مریم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ ، ص۱۱۰۔۱۱۱)
اکابر تلامذہ کو نصیحتیں
  حضرتِ سیِّدُناامام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیان فرماتے ہیں: ''ایک دن بارش ہورہی تھی، ہم سب حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر تھے۔
Flag Counter