سے حق پرہونے کے باوجود حق کے معاملے میں تم سے مایوس ہو جائے۔
(4)۔۔۔۔۔۔اے ابوعصمہ ! جب دونوں فریق بیٹھ جائیں توانہیں اطمینان و سکون سے بیٹھنے دیناتاکہ ان سے خوف اور (عدالت میں آنے کی) شرمندگی دور ہو جائے۔ پھران کے ساتھ نرمی وہمدردی کے لہجے میں بات چیت کرتے ہوئے انہیں اپنی بات سمجھانا اور ان میں سے ہرایک کی بات پوری توجہ سے سننا۔ جوکچھ وہ کہنا چاہتے ہوں کہنے دینا اور جب تک وہ اپنا اپنا مؤقف نہ بیان کر لیں اس وقت تک فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا۔ لیکن اگر وہ فضول بحث میں پڑیں تو انہیں اس سے روک دینا اور انہیں سمجھا دینا (کہ اس بات کا اصل معاملے سے کوئی تعلق نہیں) اور بیزاری،غصہ یارنج وغم کی حالت میں اور پیشاب اور بھوک کی شدت کے و قت بھی کوئی فیصلہ نہ کرنا۔
(5)۔۔۔۔۔۔اس وقت فیصلہ نہ کرنا جب تمہارا دل کسی اور چیز میں مشغول ہوبلکہ ایسے وقت فیصلہ کرنا جب تمہارا دل دیگر فکروں سے خالی ہو۔
(6)۔۔۔۔۔۔ رشتہ دارو ں میں جدائی کا فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کرنا بلکہ انہیں باربار اکٹھے بٹھانا (اوران کے معاملے کوسلجھانا) شاید! وہ آپس میں صلح کر لیں۔ پھر اگر وہ صلح کر لیتے ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کے درمیان فیصلہ کر دینا۔ اور کسی کے خلاف اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک پوری طرح وہ چیزیں واضح نہ ہوجائیں جو اس پر الزام ثابت کرتی ہوں۔