Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
39 - 44
 (2)۔۔۔۔۔۔اے ابوعصمہ! یادرکھو! فیصلوں کے ابواب بہت بڑا عالم ہی جان سکتا ہے جو علم کے اصول یعنی قرآن وحدیث اور فرامینِ صحابہ علیہم الرضوان پر اچھی نظررکھتاہو اور صاحب ِبصیرت(یعنی صحیح رائے والا) ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی احکام نافذ کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو۔ جب تمہیں کسی مسئلہ میں اشکال پیدا ہو تو قرآن وسنت اور اجماع کی طر ف رجوع کرنا اگراس کا حل ان اصول(یعنی کتاب وسنت اور اجماع) میں واضح طور پر مل جائے تو اس پر عمل کرنا اور اگر صراحۃً نہ ملے تو اس کی نظائرتلاش کرکے ان پر اصول سے استدلال کرنا۔ پھراس رائے پر عمل کرنا جو اصول کے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مشابہ ہو۔اور اس کے متعلق اہلِ علم اور صاحبِ بصیرت لوگوں سے مشورہ بھی کرتے رہنا۔اِنْ شَاءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو فقہ میں ایسی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں گے جو تم نہیں رکھتے۔

(3)۔۔۔۔۔۔اے ابوعصمہ! جب دونوں مخالف فریق(یعنی مُدَّعِی او رمُدَّعا علیہ) فیصلہ کرانے تمہاری عدالت میں حاضر ہوں تو کمزور اور طاقت ور ، شریف او ر ذلیل کو اپنی مجلس میں بٹھانے، ان کی بات سننے اوران سے بات چیت کرنے میں یکساں سلوک کرنا اور تمہاری طر ف سے کوئی ایسی بات نہ ظاہرہوکہ شریف آدمی ناحق ہونے کے باوجوداپنی شرافت کے بَل بَوتے پر تم سے اُمید لگا بیٹھے اور ذلیل اپنے گھٹیاپَن کی وجہ