| امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں |
متعلق ہوتے تھے۔ ایک دن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا: ''اے نوح! تم قضاء کا دروازہ کھٹکھٹاؤ گے۔'' چنانچہ،اپنے شہر ''مَرْو'' لوٹنے کے چنددن بعد قضاء کی ذمہ داری میرے کندھوں پرڈال دی گئی۔ اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیات تھے۔ میں نے خط کے ذریعے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات سے آگاہ کیا او ر (مجبوراًعہدہ قبول کرنے کا) عذر بھی لکھا جس کے جواب میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خط لکھا،اس میں فرمایا:
امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کامکتوب
ابو حنیفہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی طرف سے ابو عصمہ(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے نام: (1)۔۔۔۔۔۔تمہارا خط مجھے موصول ہوا اور اس میں درج تمام باتوں سے آگاہی ہوئی۔ (یاد رکھو!) تمہیں ایک بہت بھاری ذمہ داری سونپی گئی ہے جس کو پورا کرنے سے بڑے بڑے لوگ عا جزآجاتے ہیں۔اس وقت تمہاری حالت ایک ڈوبتے شخص کی مانند ہے، لہٰذا اپنے نفس کے لئے نکلنے کا راستہ تلاش کرو اور تقویٰ کواپنے اوپر لازم کرلو کیونکہ یہ تمام امور کو درست رکھتا اور آخرت میں نجات پانے اور ہر مصیبت سے چھٹکارا پانے کا وسیلہ ہے اور اس کے ذریعے تم اچھے انجام کو پا لوگے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمارے تمام کاموں کا انجام اچھا فرمائے اورہمیں اپنی رضاوالے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین) بلاشبہ وہ سننے والا، قریب ہے۔