(۳)۔۔۔۔۔۔تم میں سے کوئی اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی کے لئے وہی چیزپسندنہ کرے جو اپنے لئے کرتاہے۔
(صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب من الایمان ان یحب لاخیہ مایحب لنفسہ، الحدیث۱۳،ص۳)
(۴)۔۔۔۔۔۔بے شک حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کے متعلق بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ جو مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنی عزت اور اپنا دین بچا لیا اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں مبتلا ہوا۔ وہ اس چرواہے کی مانند ہے جو چراگاہ کے قریب اپنا ریوڑ چراتا ہے، اس کے چراگاہ میں چلے جانے کا اندیشہ ہے۔سن لو! ہر بادشاہ کی چراگاہ ہوتی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلّ َکی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑاہے، جب وہ