| امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں |
ہیں۔ چنانچہ،(آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشا د فرمایا:) جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے گاتو شام تک اسے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی اور جو شام کے وقت پڑھے گا تو صبح تک اسے کوئی مصیبت نہ پہنچے گی اور وہ کلمات یہ ہیں:
''اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا ۤ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَاَنْتَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، مَا شَآءَ اللہُ کَانَ وَمَا لَمْ یَشَآءْ لَمْ یَکُنْ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۔اَعْلَمُ اَنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ، وَاَنَّ اللہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْماً،اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ وَمِنْ شَرِّ کُلِّ دَابَۃٍ، اَنْتَ اٰخِذٌ م بِنَاصِیَتِھَا، اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔''
ترجمہ:اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! توہی میرا رب ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،میں نے تجھی پربھروسا کیا اور تو ہی عرشِ عظیم کا مالک ہے، جواللہ عَزَّوَجَلَّ نے چاہا وہ ہوا اورجونہ چاہاوہ نہ ہوا، نیکی کی قوت اورگناہ سے بچنے کی قدرت اللہ عَزَّوَجَلَّ کی توفیق سے ہی ہے جو بلند رتبہ وعظمت والا ہے۔ میں جانتاہوں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سب کچھ کر سکتا ہے اور اس کا علم ہرشے کومحیط ہے۔ اے پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ! میں اپنے نفس کے شر سے، ہر شریر کے شر سے اور ہر اس چوپائے کے شر سے تیری پناہ مانگتاہوں جس کی پیشانی تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی سیدھے راستے کی ہدایت عطا فرماتا ہے۔
(عمل الیوم واللیلۃ لابن السُّنِّی، مایقول اذا اصبح، الحدیث۵۷، ص۲۷، دار الکتاب العربی بیروت)