Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
32 - 44
ہوئے اپنے اعضاء کو گناہوں سے بچانا اور خالصتاً اس کی بندگی کرتے ہوئے اس کے احکام پر پوری طرح کار بند رہنا۔

(2)۔۔۔۔۔۔جس چیز کے جاننے کی تمہیں ضرورت ہواس کے جاننے سے جاہل نہ رہنا۔

(3)۔۔۔۔۔۔اپنی کسی دینی یادنیوی حاجت کے بغیر کسی سے تعلقات قائم نہ کرنا۔

(4)۔۔۔۔۔۔اپنی ذات سے دوسروں کو انصاف دلانااور بغیر مجبوری کے کسی سے اپنی ذات کے لئے انصاف کامطالبہ نہ کرنا۔

(5)۔۔۔۔۔۔کسی مسلمان یا ذمی(1) یعنی مسلمانوں کے ملک میں رہنے والے کافر سے دشمنی نہ کرنا ۔

(6)۔۔۔۔۔۔اللہ عَزَّوَجَلّ َکی عطا کردہ مال وعزت پر قناعت اختیار کرنا۔

(7)۔۔۔۔۔۔اپنے پاس موجود مال میں حسنِ تدبیریعنی کفایت شعاری سے کام لینا اور لوگوں سے بے نیاز ہوجانا۔

(8)۔۔۔۔۔۔اپنے اوپر لوگوں کی نظر کو کم تر خیال نہ کرنا۔

(9)۔۔۔۔۔۔فضول فکروں سے اپنے آپ کو بچانا۔

(10)۔۔۔۔۔۔ لوگو ں سے ملاقات کرتے وقت سلام میں پہل کرنا، خوش اخلاقی سے گفتگو کرنا،اچھے لوگوں سے اظہارِ محبت کرتے ہوئے ملاقات کرنا اور بُروں سے بھی نرمی کا برتاؤ کرنا۔

(11)۔۔۔۔۔۔ذکراللہ عَزَّوَجَلَّ اوردرودوسلام کی کثر ت کرنا۔
1۔۔۔۔۔۔ذمی اس کافر کوکہتے ہیں جس کے جان ومال کی حفاظت کا بادشاہ اِسلام نے جزیہ کے بدلے ذمہ لیا ہو ۔ (فتاوی فیض الرسول،ج۱،ص۵۰۱)صدرُ الشریعہ،بدرُالطریقہ مفتی محمدامجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:''ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے مگریہاں کے کفارذمی نہیں، انہیں صدقاتِ نفل مثلاً ہدیہ وغیرہ دینا ناجائز ہے۔''    (بہارِشریعت ، ج۱، حصہ۵ ، ص۹۳۱)
Flag Counter