Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
31 - 44
طرف پھینک دینا، دھوکا دہی سے بچنا اگر چہ وہ تمہیں دھوکا دیں، لوگو ں کی امانتیں پوری پوری ادا کرنا اگرچہ وہ تمہارے ساتھ خیانت کریں،وعدہ وفائی اوردوستی کو پورا کرنا، تقویٰ اختیار کرنا اوردیگر مذاہب کے لوگوں سے ان کے مذہب کے مطابق سلوک کرنا۔

    (آخر میں حضرتِ سیِّدُنا اما م اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:)

(15)۔۔۔۔۔۔اگر تم میری اس وصیت کو مضبوطی سے تھام لوگے تو میں تمہاری سلامتی کی امیدرکھتاہوں۔''پھر فرمایا:''تمہاری جدائی مجھے غم زدہ کر دے گی، تمہاری پہچان مجھے تنہائی میں اُنس دیتی تھی،اب بذریعہ خط وکتابت مجھ سے رابطہ برقراررکھنا۔تم ایسے ہو جاؤ گویا تم میرے بیٹے اورمیں تمہارا باپ۔''
 (مناقبِ امامِ اعظم، الجزء الثانی، 

شروع فی الوصیۃ لیوسف بن خالد السمتی رضی اللہ عنہ، ص۱۰۶تا۱۰۹)
 (۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ حمادرحمۃ اللہ علیہ کونصیحتیں
    (حضرتِ سیِّدُناامامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے صاحبزادے حضرتِ سیِّدُناحمادعلیہ رحمۃ اللہ الجواد کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:)اے میرے بیٹے! اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھے ہدایت دے اور تیری مدد فرمائے۔ میں تجھے چندباتوں کی نصیحت کرتا ہوں، اگر تم نے انہیں یاد رکھا اوران پر عمل کیا تو مجھے اُمید ہے کہ دُنیا وآخرت میں سعا دت مند رہو گے۔( اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ)

(1)۔۔۔۔۔۔ پہلی بات یہ ہے کہ ''تقویٰ یوں اختیار کرناکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے
Flag Counter