ہے۔ پس اگر وہ تم سے اس کا حل سنیں گے تو وہ تمہاری قدرومنزلت جانیں گے۔
(11)۔۔۔۔۔۔ اپنے پاس ہر آنے جانے والے کو ایک ایسامسئلہ بتادینا جس میں وہ غور وفکر کرتا رہے اور لوگو ں کو پیچیدہ مسائل میں الجھانے کے بجائے آسان عام فہم مسائل بتانا، ان سے محبت سے پیش آنااور کبھی کبھی خوش طبعی بھی کرلیاکرنا،ان سے بات چیت بھی کرتے رہنا اس سے محبت بھی بڑھے گی اور علم کے حصو ل پر استقامت بھی رہے گی اور کبھی کبھی انہیں کھانا بھی کھلا دیاکرنا اوران کی خطاؤں کونظرانداز کردینا۔
(12)۔۔۔۔۔۔لوگوں کی جائز حاجات پوری کرتے رہنا، ان سے نرمی برتنا اوردرگزر کرنا، کسی کے لئے تنگ دِلی اور بیزاری ظاہر نہ کرنا، ان کے ساتھ اس طر ح گُھل مل جانا گویا تم انہی میں سے ہو اور عام لوگو ں سے ایسامعاملہ کرناجیسااپنے لئے پسند کرتے ہو اور لوگو ں کے لئے وہی چیز پسند کرنا جو اپنے لئے کرتے ہو، اپنے نفس پر قابو پانے کے لئے اسے خامیوں سے بچانا اور اس کے احوال کی نگہداشت کرتے رہنا،فتنہ و فساد انگیزی نہ کرنا،جو تم سے نارا ض ہو جائے تم اس سے بیزار نہ ہونااورجو تمہاری بات پوری تو جہ سے سنے تم بھی اس کی بات غور سے سننا۔
(13)۔۔۔۔۔۔لوگ تمہیں جس کام کی تکلیف نہ دیں تم بھی انہیں اس کام کی تکلیف نہ دو اور وہ اپنے لئے جس حالت پر راضی ہوں تم بھی ان کے لئے اس حالت پر راضی ہو جا ؤ ۔
(14)۔۔۔۔۔۔لوگوں کے متعلق حسنِ نیت کو مقدم رکھنا، سچائی اختیار کرنا اور تکبر کو ایک