(10)۔۔۔۔۔۔تمہارا مسلمان بھائی بیمار ہوجائے تواس کی عیادت کے لئے جانااور خادمین کے ذریعے اس کی خبر گیری بھی کرتے رہنا اور جو تمہاری محفل میں حاضر نہ ہوسکے اس
کے حالات کاپتہ لگاتے رہنا، اگر کوئی تمہارے پاس آنا چھوڑ دے توتم پھر بھی اس کے پاس جانا نہ چھوڑنا بلکہ اس سے ملاقات کرتے رہنا،جو تمہارے ساتھ بے رُخی سے پیش آئے تم اس سے صلہ رحمی سے پیش آنا، جو تمہارے پاس آئے اس کی عزت کرنا، جو برائی سے پیش آئے اسے معاف کردینا،جوتمہاری برائی بیان کرے تم اس کی خوبیاں بیان کرنااوران میں سے کوئی وفات پا جائے تو اس کے حقوق پورے پورے ادا کرنا اور کسی کو کوئی خوشی حاصل ہو تو اسے مبارک باددینا، اورکوئی مصیبت پہنچے تو غم خواری کرنا اور اگرکسی کو کوئی آفت پہنچے تواس سے ہمدردی کرنا، اگرکوئی تمہارے پاس اپنی حاجت لائے تواس کی حاجت براری کرنا، کوئی فریاد کرے تو فریا درسی کرنا،کوئی مددکے لئے پکارے توحسب ِ استطاعت اس کی مدد کرنا اور لوگوں کے ساتھ خوب محبت سے پیش آنا، سلام کوعام کرنا اگر چہ گھٹیا لوگوں کو کرنا پڑے۔ جب تمہاری لوگوں کے ساتھ کوئی محفل قائم ہوجائے یا تم کسی محفل میں ان سے ملو اور مسائل میں بحث شروع کر دیں اور ان کی رائے تمہارے مؤقف کے خلاف ہو تو ان کے سامنے اپنا مؤقف ظاہر نہ کرنا، پھر اگرتم سے ان مسائل کے متعلق سوال کیا جائے تو پہلے لوگو ں کو وہ مسلک بتا نا جسے وہ پہلے سے جانتے ہوں، پھر کہنا کہ اس مسئلہ میں دوسرا قول بھی ہے اور وہ یہ ہے اوراس کی دلیل یہ