Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
28 - 44
 (7)۔۔۔۔۔۔غم خواری، صبر،بردباری، حسنِ اخلاق اور وسعتِ قلبی کو اپنے لئے لازم کر لینا،نمازمیں عمدہ لباس زیبِ تن کرنا،سواری کے لئے اچھاجانور رکھنااورخوشبو بکثرت استعمال کرنا،اپنی خلوت کے لئے کچھ وقت نکالنا جس میں اپنی ذاتی ضروریات پوری کر سکو ۔

(8)۔۔۔۔۔۔اپنے خدام کی خبر گیری کرتے رہنا، ان کی تادیب وتربیت کاخصوصی اہتمام کرنا، اس معاملے میں ان سے نرمی برتنا اور بے جاسختی نہ کرنا کہ وہ ڈھیٹ ہو جائیں، انہیں خود سزا نہ دینا تاکہ تمہارا وقار برقرار رہے ، نماز کی پابندی کرنا اورغریبوں فقیروں پر صدقہ وخیرات کرتے رہنا کیونکہ بخیل شخص کبھی سردار نہیں بن سکتا۔

(9)۔۔۔۔۔۔تمہارے پاس ایک قابلِ اعتماد شخص ہونا چاہے جو تمہیں لوگوں کے احوال سے آگا ہ کرتا رہے،جب تم کسی کی برائی پر مطلع ہو جاؤ توا س کی اصلاح کی جلدکوئی تدبیرکرنا اور جب کسی کی خوبی سے آگاہی ہو تو اس کی طرف زیادہ توجہ اور رغبت کرنا، اس سے بھی ملتے رہو جو تم سے ملے اور جو نہ ملے اس سے بھی ملتے رہو۔جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کے ساتھ بھی بھلائی کرو اور جو برائی سے پیش آئے اس کے ساتھ بھی اچھائی سے پیش آؤ، عفوودرگزرکی عادت اپناؤ اور نیکی کاحکم دیتے رہو، فضول کاموں سے دور رہو،جوتمہیں ایذا پہنچائے اسے معاف کردواور لوگوں کے حقوق کی ادائیگی میں جلدی کرو۔