سے میری اورتمہاری رُسوائی ہوگی۔ پس تم اُن سے دوری اختیار کرنے اور بھاگنے پر مجبور ہوجاؤ گے۔ مگر یہ درست رائے نہیں کیونکہ وہ عقل مند نہیں جو ان لوگوں سے تعلقات قائم نہ کر سکے جن کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ضروری ہو یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے کوئی راہ نکال دے۔
(5)۔۔۔۔۔۔جب تم بصرہ میں داخل ہوگے تو لوگ تمہارے استقبال اور تمہاری زیارت کو آئیں گے، تمہارا حق پہچانیں گے توتم ہر شخص کو اس کے مرتبے کے لحاظ سے عزت دینا، شُرَفاء کی عزت اوراہلِ علم کی تعظیم وتوقیر کرنا ، بڑوں کاادب واحترام اور چھوٹوں سے پیارومحبت کرنا، عام لوگو ں سے تعلق قائم کرنا،فاسق وفاجر کو ذلیل ورُسوا نہ کرنا، اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا، سلطان کی اہانت کرنے سے بچنا، کسی کوبھی حقیر نہ سمجھنا، اپنے اخلاق و عادات میں کوتاہی نہ کرنا، کسی پر اپنا راز ظاہر نہ کرنا، بغیر آزمائے کسی کی صحبت پر بھروسہ نہ کرنا، کسی ذلیل وگھٹیاشخص کی تعریف نہ کرنااورکسی ایسی چیزسے محبت نہ کرنا جوتمہارے ظاہری حال کے خلاف ہو۔