(2)۔۔۔۔۔۔جب تم لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤکروگے تو وہ تمہارے ماں باپ کی طرح ہو جائیں گے اگرچہ تمہارے اور ان کے درمیان کوئی رشتہ ناطہ نہ ہو۔
(حضرتِ سیِّدُنایوسف بن خالدبصری علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:)''پھرحضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ''کچھ دن صبر کرو یہاں تک کہ میں تمہارے لئے اپنی مصروفیات سے وقت نکالوں اوراپنی توجہ کو تمہاری طرف مبذول کر لوں اور تمہیں ایسے عمدہ کاموں کی پہچان کرا دو ں جس کی وجہ سے تم دِلی طورپرمیرے شکر گزار رہو اورنیکی کرنے کی توفیق اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے۔'' جب وعدے کی مدت پوری ہوگئی تو حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رضی ا للہ تعالیٰ عنہ نے اپنی مصروفیات سے وقت نکالا اور ارشاد فرمایا:
(4)۔۔۔۔۔۔آج میں تمہارے سامنے ان حقائق سے پردہ اٹھاؤں گا جنہیں بیان کرنے کا میں نے قصد کیا تھا گویا میں دیکھ رہا ہوں جب تم بصرہ میں داخل ہو کر ہمارے مخالفین کا رُخ کرو گے، ان پر اپنی بر تر ی جتا ؤ گے، اپنے علم کے سبب ان کے سامنے غروروتکبر کروگے، اُن سے ملنا جلنا ، اٹھنابیٹھنا تر ک کردو گے۔ تم ان کی مخالفت کروگے اوروہ تمہاری مخالفت کریں گے،تم انہیں چھوڑ دو گے اور وہ تمہیں چھوڑ دیں گے، تم انہیں برا بھلا کہوگے اور وہ تمہیں کہیں گے، تم انہیں گمراہ کہو گے اوروہ تمہیں کہیں گے اوراس