Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
25 - 44
کرلینا، بلاشبہ یہ تمہاری اور تمام مسلمانوں کی اصلاح کے لئے ہیں۔
(الأشباہ والنظائر، وصیۃ الامام اعظم لأبی یوسف رحمہما اللہ تعالٰی، ص۳۶۷ تا ۳۷۲، دار الکتب العلمیۃ بیروت۔مناقب الامام الاعظم للموفق، الجزء الثانی، وصیۃ الامام اعظم لأبی یوسف رحمہما اللہ تعالٰی، ص۱۱۳تا۱۱۹، مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ)
(۲)۔۔۔۔۔۔حضرتِ یوسف بن خالد رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحتیں
     حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن خالد سمتی بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے تکمیلِ علم کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنے شہربصرہ جانے کی اجازت طلب کی توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''کچھ دن ٹھہروتاکہ میں تمہیں ان ضروری امورکے متعلق وصیت کرو ں کہ لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے، اہلِ علم کے مراتب پہچاننے ، نفس کی اصلاح اور لوگو ں کی نگہبانی کر نے ، عوام وخواص کو دوست رکھنے اور عام لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے جن کی ضرورت پڑتی ہے یہاں تک کہ جب تم علم حاصل کرکے جاؤ تو وہ وصیت تمہارے ساتھ ایسے آلہ کی طرح ہوجس کی علم کو ضرورت ہوتی ہے اور وہ علم کو مزین کرے اور اسے عیب دار ہو نے سے بچائے۔''

(1)۔۔۔۔۔۔یادرکھو!اگر تم لوگو ں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اگرچہ تمہارے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔
Flag Counter