حضرتِ سیِّدُنا یوسف بن خالد سمتی بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی نے تکمیلِ علم کے بعد جب حضرتِ سیِّدُنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اپنے شہربصرہ جانے کی اجازت طلب کی توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:''کچھ دن ٹھہروتاکہ میں تمہیں ان ضروری امورکے متعلق وصیت کرو ں کہ لوگوں کے ساتھ معاملات کرنے، اہلِ علم کے مراتب پہچاننے ، نفس کی اصلاح اور لوگو ں کی نگہبانی کر نے ، عوام وخواص کو دوست رکھنے اور عام لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے جن کی ضرورت پڑتی ہے یہاں تک کہ جب تم علم حاصل کرکے جاؤ تو وہ وصیت تمہارے ساتھ ایسے آلہ کی طرح ہوجس کی علم کو ضرورت ہوتی ہے اور وہ علم کو مزین کرے اور اسے عیب دار ہو نے سے بچائے۔''
(1)۔۔۔۔۔۔یادرکھو!اگر تم لوگو ں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آئے تو وہ تمہارے دشمن بن جائیں گے اگرچہ تمہارے ماں باپ ہی کیوں نہ ہوں۔