(97)۔۔۔۔۔۔جب تم کسی صاحب ِ علم کی محفل میں شرکت کا ارادہ کرو تودیکھ لو اگر وہ فقہ کی محفل ہو تو اس میں شرکت کر لو اورجو علم حاصل کرو وہ لوگوں کے سامنے بیان کردو اور اگر وہ عام واعظ ہو تواس کی محفل میں شرکت نہ کرو تاکہ تمہاری وجہ سے لو گ دھو کے میں نہ پڑیں اور اس شخص کے متعلق یہ نہ سمجھیں کہ یہ علم کے اعلیٰ درجہ پرفائزہے حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہو گا اور اگر وہ فتویٰ دینے کی صلاحیت رکھتاہو تو لوگو ں کو اس کے متعلق بتاؤ اور اگر اس کی صلاحیت نہ رکھتاہو تواس کی محفل میں نہ بیٹھنا کہ وہ تمہارے سامنے درس دے بلکہ وہاں اپنے کسی قابلِ اعتماددوست کوبھیج دیناجو اس کے کلام کی کیفیت اور علمی مقام کے متعلق تمہیں خبر دے سکے۔
(98)۔۔۔۔۔۔ایسوں کی محفل وعظ وذکر میں نہ جانا جو تمہارے جاہ ومرتبہ اور تزکیہ کے ذریعے اپنی شہرت چاہتے ہوں بلکہ اپنے محلہ کے کسی بااعتماد عام آدمی کو اپنے کسی شاگرد کے ساتھ بھیج دینا۔
(99)۔۔۔۔۔۔خطبہ نکاح،نمازِجنازہ وعیدین پڑھانے کی ذمہ داری اپنے علاقے کے کسی خطیب کے سپر د کردینا،مجھے اپنی نیک دعاؤں میں یاد رکھنا اور میری یہ نصیحتیں قبول