Brailvi Books

امامِ اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی وصیتیں
18 - 44
معزّزلوگوں کی اصلاح کاطریقہ:
(66)۔۔۔۔۔۔ جب تم کسی عزَّت ووجاہت والے شخص میں دینی خرابی دیکھو تو اس کے جاہ ومرتبہ کالحاظ کئے بغیر اس کی اصلاح کرو، اللہ عَزَّوَجَلَّ ضرور تمہارا اور اپنے دین کا مددگار ہو گا اور جب تم نے ایک بار بھی ایسا کر دیا تولوگ تجھ سے ڈریں گے اور پھر کوئی بھی تمہارے سامنے اور تمہارے شہر میں بد عت ظاہر کرنے کی جرأت نہ کریگا اور ایسے شخص پرعوام کو مسلَّط کر دو تاکہ لوگ دینی جد وجہد میں تمہاری اتباع کریں۔
بادشاہ کی اصلاح کاطریقہ:
(67)۔۔۔۔۔۔ جب تم بادشاہ کے اندر کوئی خلافِ شرع بات دیکھو تو اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے سامنے اس برائی کا ذکر کر دوکیونکہ اس کی طاقت وقوت تم سے زیادہ ہے ، اس سے یوں کہو کہ جن باتوں میں آپ کو مجھ پر اقتدار واختیار حاصل ہے میں ان میں آپ کا فرمانبردار ہوں لیکن آپ کے کردار میں کچھ ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو شریعت کے موافق نہیں۔ اوریہ یاد رہے کہ ایک مرتبہ نصیحت کردینا ہی کافی ہے، بار باربادشاہ کو نصیحت کروگے تو اس کے درباری تمہارا اثر ورسوخ ختم کر دیں گے جس کی وجہ سے دین کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایک یا دومرتبہ نصیحت کردو تاکہ لوگ تمہاری دینی جدوجہداو ر نیکی کی دعوت کے جذبے کوجان لیں۔ اس کے بعداگر بادشاہ دوبارہ کسی
Flag Counter