اور بنایا ان مشرکین نے جنات کو اللہ کا شریک حالانکہ اس نے انہیں پیدا کیا اور بنایا اس کے لئے بیٹے اوربیٹیاں ۔ (پ7،الانعام:100)
غرضیکہ الٰہ کا مدار صرف اسی پر ہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے برابر ماننا اور برابر ی کی وہ ہی صورتیں ہیں جو اوپر کی آیا ت سے معلوم ہوئیں۔ ہم مخلوق کو سمیع ، بصیر، زندہ ، قادر ، مالک ،وکیل، حاکم ،شاہد اور متصرف مانتے ہیں مگر مشرک نہیں کیونکہ کسی کو ان صفات میں رب تعالیٰ کی طر ح نہیں مانتے ۔
اعتراض:رب تعالیٰ بتو ں او رنبیوں ، ولیوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :
مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ سُبْحٰنَ اللہِ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوۡنَ ﴿۶۸﴾
اور ان کے لئے کوئی اختیار نہیں اللہ پاک اور برتر ہے اس سے جو شرک کرتے ہیں۔ (پ20،القصص:68)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ کسی کو اختیارماننا ہی شرک ہے تم بھی نبیوں ، ولیوں کو اختیار مانتے ہو۔ تم نے انہیں الٰہ بنالیا ۔