| علمُ القرآن |
(2) اِتَّخَذُوۡۤا اَحْبَارَہُمْ وَرُہۡبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ وَالْمَسِیۡحَ ابْنَ مَرْیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا
عیسائیوں نے اپنے پادریوں اور جو گیوں کو اللہ کے سوا خدا بنالیا او رمسیح بیٹے مریم کو او رانہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک خدا کو پوجیں۔(پ10،التوبۃ:31)
ظاہر ہے کہ عیسائیوں نے نہ تو اپنی خواہش کو نہ اپنے پادریوں کو خدا مانا مگر چونکہ رب تعالیٰ کے مقابلہ میں ان کی اطاعت کی اس لئے انہیں گویا الٰہ بنالیا۔
(۲) کسی کو یہ سمجھناکہ یہ ہم کو رب تعالیٰ کے مقابلہ میں اس سے بچالے گا یعنی وہ عذاب دینا چاہے تو یہ نہ دینے دیں۔(1) اَمْ لَہُمْ اٰلِہَۃٌ تَمْنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسْتَطِیۡعُوۡنَ نَصْرَ اَنۡفُسِہِمْ وَ لَا ہُمۡ مِّنَّا یُصْحَبُوۡنَ ﴿۴۳﴾
کیا ان کے کچھ خدا ہیں جو ان کو ہمارے مقابل ہم سے بچالیں وہ تو اپنی جانوں کو نہیں بچاسکتے اور نہ ہماری طر ف سے ان کی مدد کی جائے ۔ (پ17،الانبیآء:43) (۳) کسی کو دھونس کا شفیع سمجھنا کہ رب تعالیٰ کے مقابل اس کی مرضی کیخلاف ہمیں اس سے چھڑا لیگا ۔
(1) اَمِ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ شُفَعَآءَ ؕ قُلْ اَوَ لَوْ کَانُوۡا لَا یَمْلِکُوۡنَ شَیْـًٔا وَّ لَا یَعْقِلُوۡنَ ﴿۴۳﴾قُلۡ لِّلہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیۡعًا
کیا انہوں نے اللہ کے مقابل سفارشی بنا رکھے ہیں فرمادو کہ کیا اگر چہ وہ کسی چیز کے مالک نہ ہوں اور نہ عقل رکھیں فرمادو کہ شفاعت تو سب اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔(پ24،الزمر:43،44)
(2) مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشْفَعُ عِنْدَہٗۤ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ؕ
وہ کو ن ہے جو رب کے پاس اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کر سکے ۔(پ3البقرۃ:255)