Brailvi Books

علمُ القرآن
83 - 244
جواب : یہا ں اختیار سے مراد پید اکرنے کا اختیارہے، اسی لئے فرمایا گیا :
وَ رَبُّکَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ ؕ مَا کَانَ لَہُمُ الْخِیَرَۃُ ؕ
آپ کا رب جو چاہے پیدا کرے اور اختیار فرمائے انہیں کوئی اختیار نہیں ۔(پ20،القصص:68)

    بااختیار سے مراد ہے رب تعالیٰ کے مقابل اختیار ورنہ تم بھی بادشاہوں ، حاکموں کوبا اختیار مانتے ہو ۔ اسی لئے ان سے ڈرتے ہو ۔

اعتراض : رب تعالیٰ نے نبیوں ، ولیوں اور بتوں کے لئے فرمایا:
وَیَعْبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَایَضُرُّہُمْ وَ لَایَنۡفَعُہُمْ
وہ ا للہ کے سوا ان چیز وں کو پوجتے ہیں جو نہ انہیں نقصان دے نہ نفع ۔(پ11،یونس:18)

معلوم ہوا کہ کسی کو نافع اور ضار ماننا اسے الٰہ ماننا ہے اور تم بھی نبیوں ، ولیوں کو نافع اور ضار مانتے ہو تم بھی مشرک ہوئے ۔

جواب: ان جیسی آیات میں رب تعالیٰ کے مقابلہ میں نافع ماننا مراد ہے کہ رب تعالیٰ چاہے ہمیں نقصان پہنچا نا اور یہ ہمیں نفع پہنچادیں ، اس کی تفسیر یہ آیت ہے :
وَ اِنۡ یَّخْذُلْکُمْ فَمَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَنۡصُرُکُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِہٖ ؕ
اگر خدا تمہیں رسوا کرے تو اس کے بعد تمہیں مدد کون دے گا ۔(پ4،اٰل عمرٰن: 160)

ورنہ تم بھی بادشاہ حاکموں ، بلکہ سانپ ، بچھو، دواؤں کو نافع اور نقصان دہ مانتے ہو۔ نیز فرماتا ہے :
وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ اِنۡ یَّمْسَسْکَ بِخَیۡرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۷﴾
اگر تجھے اللہ سختی پہنچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنیوالا نہیں اور جو تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔(پ7،الانعام:17)
Flag Counter