Brailvi Books

علمُ القرآن
63 - 244
 (1) یُغْشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾
ڈھکتا ہے رات سے دن کو اس میں نشانیاں ہیں فکر والوں کے لئے۔(پ13،الرعد:3)
(2) اِنَّ فِیۡ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلْبَابِ ﴿۱۹۰﴾
بے شک آسمان وزمین کی پیدائش اور دن رات کے گھٹنے بڑھنے میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کے لئے ۔(پ4،اٰل عمرٰن:190)
(3) وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوۡقِنِیۡنَ ﴿ۙ۲۰﴾وَ فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوۡنَ ﴿۲۱﴾
اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین والوں کے لئے اور خود تمہاری ذاتوں میں ہیں تو تم دیکھتے کیوں نہیں ۔(پ26،الذٰریٰت:20،21)
(4) اَفَلَا یَنۡظُرُوۡنَ اِلَی الْاِبِلِ کَیۡفَ خُلِقَتْ ﴿ٝ۱۷﴾وَ اِلَی السَّمَآءِ کَیۡفَ رُفِعَتْ ﴿ٝ۱۸﴾وَ اِلَی الْجِبَالِ کَیۡفَ نُصِبَتْ ﴿ٝ۱۹﴾وَ اِلَی الْاَرْضِ کَیۡفَ سُطِحَتْ ﴿۲۰﴾ٝ
کیا یہ نہیں دیکھتے اونٹ کی طر ف کہ کیسے پیدا کیا گیا اور آسمان کی طرف کہ کیسا اونچا کیاگیااورپہاڑوں کی طرف کہ کیسے گاڑاگیا اور زمین کی طر ف کہ کیسے بچھائی گئی ۔(پ30،الغاشیۃ:17۔20)

    اس قسم کی بیسیوں آیات میں ان دہر یوں کی تردید ہے ۔

    چوتھے یہ عقیدہ کہ خالق ہر چیز کا تو رب ہی ہے مگر وہ ایک بار پیدا کر کے تھک گیا،اب کسی کام کانہیں رہا،اب اس کی خدائی کی چلانے والے یہ ہمارے معبودین باطلہ ہیں۔ اس قسم کے مشرکین عجیب بکواس کرتے تھے ۔ کہتے تھے کہ چھ دن میں آسمان زمین پیدا ہوئے اور ساتواں دن اللہ نے آرام کا رکھا تھکن دور کرنے کو
Flag Counter