(7) ہٰذَا خَلْقُ اللہِ فَاَرُوۡنِیۡ مَاذَا خَلَقَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ ؕ
یہ اللہ کی مخلوق ہے پس مجھے دکھا ؤ کہ اس کے سوااوروں نے کیا پیداکیا ۔(پ21،لقمٰن:11)
ان جیسی تمام آیتو ں میں اسی قسم کے شر ک کا ذکر ہے اور اسی کی تردید ہے۔ اگر یہ مشرک غیر خدا کو خالق نہ مانتے ہوتے تو ان سے یہ مطالبہ کرنا کہ ان معبودوں کی مخلوق دکھاؤ درست نہ ہوتا ۔
تیسرے یہ کہ خود زمانہ کو مؤثر مانا جائے اور خدا کی ہستی کا انکار کیا جائے جیسا کہ بعض مشرکین عرب کا عقیدہ تھا ۔ موجودہ دہر یہ انہی کی یادگارہیں۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :(1) وَقَالُوۡا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوۡتُ وَ نَحْیَا وَمَا یُہۡلِکُنَاۤ اِلَّا الدَّہۡرُ ۚ وَ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ۚ
وہ بولے وہ تو نہیں مگر یہ ہی ہماری دنیا کی زندگی مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور ہمیں ہلاک نہیں کرتا مگر زمانہ اور انہیں اس کا علم نہیں ۔(پ25،الجاثیۃ:24)
اس قسم کے دہر یوں کی تردید کے لئے تمام وہ آیات ہیں جن میں حکم دیا گیا ہے کہ عالم کی عجائبات میں غور کر و کہ ایسی حکمت والی چیز یں بغیر خالق کے نہیں ہوسکتیں۔