Brailvi Books

علمُ القرآن
64 - 244
اب بھی وہ آرام ہی کر رہا ہے۔ چنانچہ فرقہ تعطیلیہ اسی قسم کے مشرکوں کی یاد گار ہے۔ ان کی تردید ان آیا ت میں ہے :
(1) وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ ﴿۳۸﴾
اور بے شک ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے چھ دن میں بنایا اور ہم کو تھکن نہ آئی(پ26،قۤ:38)
(2) اَفَعَیِیۡنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ ؕ بَلْ ہُمْ فِیۡ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾
تو کیا ہم پہلی بار بنا کر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں ہیں۔(پ26،قۤ:15)
(3) اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّ اللہَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَلَمْ یَعْیَ بِخَلْقِہِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنْ یُّحْیَِۧ الْمَوْتٰی ؕ
اور کیا ان لوگو ں نے غور نہ کیا کہ اللہ نے آسمانوں او رزمین کو پیدافرمایا اور انہیں پیدا کر کے نہ تھکا وہ قادر اس پر بھی ہے کہ مردو ں کو زندہ کر ے ۔(پ26،الاحقاف:33)
(4) اِنَّمَاۤ اَمْرُہٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾
اس کی شان یہ ہے کہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے کہتا ہے ہو جا تو وہ ہوجاتی ہے ۔(پ23،یٰسۤ:82)

    اس قسم کے مشرکوں کی تردید کیلئے اس جیسی کئی آیات ہیں جن میں فرمایا گیا کہ ہم کو عالم کے بنانے میں کسی قسم کی کوئی تھکاوٹ نہیں پہنچتی ۔ اس قسم کے مشرک قیامت کے منکر اس لئے بھی تھے کہ وہ سمجھتے تھے ایک دفعہ دنیا پیدا فرما کر حق تعالیٰ کافی تھک چکا ہے اب دو بارہ کیسے بنا سکتا ہے۔ معاذاللہ ! اس لئے فرمایا گیا کہ ہم تو صرف
Flag Counter