Brailvi Books

علمُ القرآن
61 - 244
خالق خیر کو'' یزداں'' اور خالق شر کو ''اہر من ''کہتے ہیں ۔ یہ وہی پرانا مشر کا نہ عقیدہ ہے یا بعض کفار کہتے تھے کہ ہم اپنے برے اعمال کے خود خالق ہیں کیونکہ ان کے نزدیک بری چیزوں کا پیدا کرنا براہے لہٰذا اس کا خالق کوئی اور چاہیے اس قسم کے مشرکوں کی تردید کے لئے یہ آیات آئیں۔ خیال رہے کہ بعض عیسائی تین خالقوں کے قائل تھے جن میں سے ایک عیسی علیہ السلام ہیں ان تمام کی تردید میں حسب ذیل آیات ہیں۔
(1) وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾
اللہ نے تم کو اور تمہارے سارے اعمال کو پیدا کیا ۔(پ23،الصافات:96)
(2) اَللہُ خَالِقُ کُلِّ شَیۡءٍ ۫ وَّ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿۶۲﴾
اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہ ہر چیز کا مختار ہے۔(پ24،الزمر:62)
(3) خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ
اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا ۔(پ29،الملک:2)
(3) اَنَّ اللہَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرْضَ
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔(پ13،ابرٰھیم:19)
(4) لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ہُوَ الْمَسِیۡحُ ابْنُ مَرْیَمَ
بے شک کافر ہوگئے وہ جنہوں نے کہاکہ اللہ وہی مسیح مریم کابیٹاہے ۔(پ6،المآئدۃ:17)
(5) لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللہَ ثَالِثُ ثَلٰثَۃٍ
بے شک کافر ہوگئے وہ جو کہتے ہیں کہ اللہ تین خداؤں میں تیسرا ہے ۔(پ6،المآئدۃ:73)
Flag Counter