Brailvi Books

علمُ القرآن
60 - 244
(2) وَقَالَتِ الْیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابْنُ اللہِ وَقَالَتِ النَّصٰرَی الْمَسِیۡحُ ابْنُ اللہِ
یہودی بولے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور عیسائی بولے کہ مسیح اللہ کے بیٹے ہیں ۔(پ10،التوبۃ:30)
(3) وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنْ عِبَادِہٖ جُزْءًا ؕ اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ؕ٪۱۵﴾
بنادیا ان لوگوں نے اللہ کے لئے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا بے شک آدمی کھلا ناشکرا ہے۔(پ25،الزخرف:15)
(4) وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلْقَہُمْ ؕ
انہوں نے فرشتوں کو جو رحمن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے ۔(پ25،الزخرف:19)
(5) اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىکُمۡ بِالْبَنِیۡنَ ﴿۱۶﴾
کیا اس نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیا ں بنالیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا۔(پ25،الزخرف: 16)
(6) وَ جَعَلُوۡا لِلہِ شُرَکَآءَ الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ وَ خَرَقُوۡا لَہٗ بَنِیۡنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ؕ
اور اللہ کا شریک ٹھہرایا جنوں کو حالانکہ اس نے ان کو بنایا اور اس کیلئے بیٹے اور بیٹیاں گھڑلیں جہالت سے ۔(پ7،الانعام:100)
(7) لَیُسَمُّوۡنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْاُنۡثٰی ﴿۲۷﴾
یہ کفار فرشتوں کا نام عورتوں کا سا رکھتے تھے ۔(پ27،النجم:27)

    ان جیسی بہت سی آیتوں میں اسی قسم کا شرک مراد ہے یعنی کسی کو رب کی اولاد ماننا دوسرے یہ کہ کسی کو رب تعالیٰ کی طر ح خالق مانا جائے جیسے کہ بعض کفار عرب کا عقیدہ تھا کہ خیر کا خالق اللہ ہے اور شرکا خالق دوسرا رب ،اب بھی پارسی یہی مانتے ہیں
Flag Counter