Brailvi Books

علمُ القرآن
59 - 244
(2) حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾
میں تمام برے دینوں سے بیزار ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔(پ7،الانعام:79)
(3) اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیۡمٌ ﴿۱۳﴾
بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۔(پ21،لقمٰن:13)
(4) وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُہُمْ بِاللہِ اِلَّا وَہُمۡ مُّشْرِکُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾
ان میں سے بہت سے لوگ اللہ پر ایمان نہیں لائے مگر وہ مشرک ہوتے ہیں۔(پ13,یوسف:106)

ان جیسی صدہا آیتو ں میں شرک اس معنی میں استعمال ہوا ہے بمعنی کسی کو خدا کے مساوی جاننا۔
شرک کی حقیقت
شرک کی حقیقت رب تعالیٰ سے مساوات پر ہے یعنی جب تک کسی کو رب کے برابر نہ جانا جائے تب تک شرک نہ ہوگا اسی لئے قیامت میں کفار اپنے بتوں سے کہیں گے ۔
تَاللہِ اِنۡ کُنَّا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ۙ۹۷﴾
خدا کی قسم ہم کھلی گمراہی میں تھے کہ تم کورب العالمین کے برابر ٹھہراتے تھے ۔(پ19،الشعرآء:97)

    اس برابر جاننے کی چند صورتیں ہیں ایک یہ کہ کسی کو خدا کا ہم جنس مانا جائے جیسے عیسائی عیسی علیہ السلام کو اور یہودی عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے اور مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے چونکہ اولاد باپ کی ملک نہیں ہوتی بلکہ باپ کی ہم جنس اور مساوی ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ ماننے والا مشرک ہوگا ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
(1) وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحٰنَہٗ ؕ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
یہ لوگ بولے کہ اللہ نے بچے اختیار فرمائے پاکی ہے اس کے لئے بلکہ یہ اللہ کے عزت والے بندے ہیں ۔(پ17،الانبیاء:26)
Flag Counter