Brailvi Books

علمُ القرآن
48 - 244
(3)اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیۡتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِ اَنۡ یَّطَّوَّفَ بِہِمَا ؕ
صفا اور مروہ پہاڑ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کو ئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ ان پہاڑوں کا طواف کرے ۔(پ2،البقرۃ:158)

    صفا اور مروہ وہ پہاڑ ہیں جن پر حضرت ہاجرہ پانی کی تلاش میں سات بار چڑھیں او راتریں ۔ اس اللہ والی کے قدم پڑجانے کی بر کت سے یہ دونوں پہاڑ شعائر اللہ بن گئے اور تا قیامت حاجیوں پرا س پاک بی بی کی نقل اتارنے میں ان پر چڑھنا اور اتر ناسات بار لازم ہوگیا ۔ بزرگو ں کے قدم لگ جانے سے وہ چیز شعائر اللہ بن جاتی ہے۔ فرماتا ہے :
(4)وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبْرٰہٖمَ مُصَلًّی ؕ
تم لوگ مقام ابراہیم کو جاء نماز بناؤ ۔(پ1،البقرۃ:125)

    مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہوکر ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ معظمہ کی تعمیر کی وہ بھی حضرت خلیل علیہ السلام کی برکت سے شعائر اللہ بن گیااوراس کی تعظیم ایسی لازم ہوگئی کہ طواف کے نفل اس کے سامنے کھڑے ہوکر پڑھنا سنت ہوگئے کہ سجدہ میں سر اس پتھر کے سامنے جھکے۔ 

    جب بزرگو ں کے قدم پڑجانے سے صفا مروہ اور مقام ابراہیم شعائر اللہ بن گئے اور قابل تعظیم ہوگئے تو قبو ر انبیاء واولیاء جس میں یہ حضرات دائمی قیام فرما ہیں یقینا شعائر اللہ ہیں اور ان کی تعظیم لازم ہے ۔ 

    رب تعالیٰ فرما تاہے :
Flag Counter