ولی اللہ وہ ہیں جوایمان لائے اور پرہیزگار ی کرتے تھے ۔(پ11،یونس:63)
(3) اِنۡ تَتَّقُوا اللہَ یَجْعَلۡ لَّکُمْ فُرْقَانًا
اگر اللہ کی اطاعت کر و گے تو تمہارے لئے فرق بتا دے گا ۔ (پ9،الانفال:29)
دلی تقوی کا دار ومدار اس پر ہے کہ اللہ کے پیارو ں بلکہ جس چیز کو ان سے نسبت ہوجاوے اس کی تعظیم وادب دل سے کر ے ۔ تبرکات کا بے ادب دلی پرہیز گار نہیں ہو سکتا ۔ فرماتا ہے :
(1) وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ ﴿۳۲﴾
جو کوئی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دل کی پرہیز گا ری سے ہے ۔(پ17،الحج:32)
(2) وَمَنۡ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللہِ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ
اور جو کوئی اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو اس کیلئے اس کے رب کے ہاں بہتری ہے ۔(پ17،الحج:30)
یہ بھی قرآن کریم ہی سے پوچھو کہ شعا ئر اللہ یعنی اللہ کی نشانیا ں کیا چیز ہیں۔فرماتا ہے :