| علمُ القرآن |
(5) فَقَالُوا ابْنُوۡا عَلَیۡہِمۡ بُنْیَانًا ؕ رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ ؕ قَالَ الَّذِیۡنَ غَلَبُوۡا عَلٰۤی اَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیۡہِمۡ مَّسْجِدًا ﴿۲۱﴾
پس لوگ بولے کہ ان اصحاب کہف پر کوئی عمارت بناؤ ان کا رب انہیں خوب جانتا ہے اور وہ بولے جواس کام میں غالب رہے کہ ہم تو ضرور ان پر مسجد بنائیں گے ۔(پ15،الکھف:21)
اصحاب کہف کے غار پر جو ان کا آرام گاہ ہے گذشتہ مسلمانوں نے مسجد بنائی اور رب نے ان کے کام پر ناراضگی کا اظہار نہ کیا پتا لگا کہ وہ جگہ شعا ئر اللہ بن گئی جس کی تعظیم ضروری ہوگئی۔(6) وَالْبُدْنَ جَعَلْنٰہَا لَکُمۡ مِّنۡ شَعَآئِرِ اللہِ لَکُمْ فِیۡہَا خَیۡرٌ
اور قربانی کے جانور(ہدی)ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں میں سے بنائے تمہارے لئے ان میں خیر ہے ۔(پ17،الحج:36)
جو جانور قربانی کے لئے یا کعبہ معظمہ کیلئے نامزد ہوجائے وہ شعائر اللہ ہے اس کا احترام چاہیے جیسے قرآن کا جزدان اور کعبہ کا غلاف اور زمزم کاپانی اورمکہ شریف کی زمین۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو رب یا رب کے پیاروں سے نسبت ہے ان سب کی تعظیم ضروری ہے ۔فرماتا ہے :(7) لَاۤ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۱﴾وَ اَنۡتَ حِلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَدِ ۙ﴿۲﴾
میں اس شہر مکہ معظمہ کی قسم فرماتا ہوں حالانکہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرماہو۔(پ30،البلد:1۔2)
(8) وَالتِّیۡنِ وَ الزَّیۡتُوۡنِ ۙ﴿۱﴾وَ طُوۡرِ سِیۡنِیۡنَ ۙ﴿۲﴾وَ ہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیۡنِ ۙ﴿۳﴾
قسم ہے انجیر کی اور زیتو ن کی اورطور سینا پہاڑ کی اور اس امانت والے شہر مکہ شریف کی۔(پ30،التین:1۔3)