Brailvi Books

علمُ القرآن
38 - 244
حدیث بھی پیش کی جاوے تو اسے بھی قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے گا کیونکہ آج کل اس طرزاستدلال کو مسلمان بہت پسند کرتے ہیں اور اس سے زیادہ مانوس ہیں ضرورت زمانہ کا لحاظ رکھتے ہوئے اس پر قلم اٹھایا گیا ہے ۔
پہلا باب 

اصطلاحات قرآنیہ
    قرآن شریف میں بعض الفاظ کسی خاص معنی میں استعمال فرمائے گئے ہیں کہ اگر اس کے علاوہ ان کے دوسرے معنی کیے جائیں تو قرآن کا مقصد بدل جاتا ہے یا فوت ہوجا تا ہے ان اصطلاحوں کو بہت یاد رکھنا چاہئے تا کہ ترجمہ میں دھوکا نہ ہو ۔
ایمان
    ایمان امن سے بنا ہے جس کے لغوی معنی امن دینا ہے اصطلاح شریعت میں ایمان عقائد کا نام ہے جن کے اختیار کرنے سے انسان دائمی عذاب سے بچ جاوے جیسے تو حید، رسالت ، حشر و نشر ، فرشتے ، جنت ، دو زخ اور تقدیر کو ماننا وغیرہ وغیرہ جس کا کچھ ذکر اس آیت میں ہے ۔
کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ ۟
سب مومن اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا کے رسولوں میں فرق نہیں کرتے(پ3،البقرۃ:285)
Flag Counter