Brailvi Books

علمُ القرآن
39 - 244
    لیکن اصطلاح قرآن میں ایمان کی اصل جس پر تمام عقیدوں کا دار ومدار ہے یہ ہے کہ بندہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دل سے اپنا حاکم مطلق مانے ۔ اپنے کو ان کا غلام تسلیم کرے کہ مومن کے جان ، مال ، اولاد سب حضور کی ملک ہیں او رنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا سب مخلوق سے زیادہ ادب واحترام کرے ۔ اگر اس کو ما ن لیاتو توحید اورکتب، فرشتے وغیرہ تمام ایمانیات کو مان لیا اور اگر اس کو نہ مانا تو اگرچہ توحید ، فرشتے، حشر نشر ، جنت ودوزخ سب کو مانے مگر قرآن کے فتوے سے وہ مومن نہیں بلکہ کافرومشرک ہے ۔ ابلیس پکا موحد ، نمازی ، ساجد تھا ۔ فرشتے ، قیامت ، جنت ودوزخ سب کو مانتا تھا مگر رب تعالیٰ نے فرمایا :
 وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ
شیطان کا فر وں میں سے ہے ۔ (البقرۃ:۳۴)                                                     کیوں؟ صرف اس لئے کہ نبی کی عظمت کا قائل نہ تھا۔ غرض ایمان کا مدار قرآن کے نزدیک عظمت مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم پر ہے ۔ ان آیات میں یہی اصطلاح استعمال ہوئی۔
(۱) فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَیُسَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا ﴿۶۵﴾
اے محبوب ! تمہارے رب کی قسم !یہ سارے توحید والے اور دیگر لوگ اس وقت تک مومن نہ ہونگے جب تک کہ تم کو اپنا حاکم نہ مانیں اپنے سارے اختلاف و جھگڑوں میں پھر تمہارے فیصلے سے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں او ررضا وتسلیم اختیار کریں ۔(پ5،النساء:65)

    پتاچلا کہ صرف تو حید کا ماننا ایمان نہیں اور تمام چیز وں کا ماننا ایمان نہیں نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو حاکم ماننا ایمان ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :
Flag Counter