Brailvi Books

علمُ القرآن
36 - 244
وَالَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوْلِیَآءَ ۘ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللہِ زُلْفٰی ؕ
اور جنہوں نے رب کے سوا اور ولی بنائے کہتے ہیں ہم تو انہیں نہیں پوجتے مگر اس لئے کہ ہمیں وہ اللہ سے قریب کردیں ۔(پ23،الزمر:3)
وَالَّذِیۡنَ لَا یَدْعُوۡنَ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ
اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی دو سرے معبود کو نہیں پکارتے ۔(پ19،الفرقان:68)

    اس آیت میں ولی بمعنی معبود ہے اس لئے اس کے ساتھ عبادت کا ذکر ہے۔ یہ تین طر ح کا ولی ماننا کفر و شرک ہے اور ایسا ولی ماننے والا مشرک ومرتد ہے چوتھی قسم کا ولی وہ کہ کسی کو اللہ کا بندہ سمجھ کر اللہ کے حکم سے اسے مدد گار مانا جائے اور اس کی مدد کو رب تعالیٰ کی مدد کا مظہرسمجھا جاوے یہ بالکل حق ہے جس کی آیات ابھی ابھی گزرچکیں۔ 

    ان آیات نے تفسیر کر دی کہ ممانعت کی آیات میں پہلی تین قسم کے ولی مراد ہیں او رثبوت اولیاء کی آیات میں چوتھی قسم کے ولی مراد ہیں ۔ سبحان اللہ ! اس قرآنی تفسیر سے کوئی اعتراض باقی نہ رہا لیکن وہابی جب اس تفسیر سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو اب ولی میں قید لگاتے ہیں کہ مافوق الاسباب کسی کو مدد گار ماننا شرک ہے یہ تفسیر نہایت غلط ہے اولا تواس لئے کہ ما فوق الا سباب کی قیدان کے گھر سے لگی ہے ۔ قرآن میں نہیں ہے دو سرے اس لیے کہ یہ تفسیر قرآن کے خلاف ہے جو ہم نے عرض کی تیسرے یہ کہ اللہ کے بندے مافوق الاسباب مدد کرتے ہیں ۔ جس کی آیات باب مسائل قرآنیہ میں عرض ہوں گی غرضیکہ یہ تفسیر باطل ہے اور قرآنی تفسیر بالکل صحیح ہے یہ تفسیر قرآن بالقرآن کی چند مثالیں عرض کیں ۔

تفسیر قرآن بالحدیث کی بہت سی مثالیں ہیں ۔رب تعالیٰ فرماتا ہے :
Flag Counter