| علمُ القرآن |
اور جو کوئی اللہ کے ساتھ دو سرے معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کاحساب اس کے رب کے پاس ہوگا ۔(پ۱۸،المؤمنون:۱۱۷)
فَلَا تَدْعُوۡا مَعَ اللہِ اَحَدًا ﴿ۙ۱۸﴾
اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو ۔(پ۲۹،الجن:۱۸) ان آیتوں نے بتایا کہ جن آیتوں میں غیرخدا کو پکارنے سے روکا گیا ہے وہاں اسے خدا سمجھ کر پکارنا یا اللہ کے ساتھ ملا کر پکارنا مراد ہے یعنی پوجنا ۔ لہٰذا ان آیتوں کی تفسیر سے تمام ممانعت کی آیتو ں کا یہ مطلب ہوگا ۔ اس تفسیر سے مطلب ایسا صاف ہوگیا کہ کسی قسم کا کوئی اعتراض پڑسکتا ہی نہیں۔ نیز فرماتا ہے :
وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدْعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَنۡ لَّا یَسْتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الْقِیٰمَۃِ وَ ہُمْ عَنۡ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوۡنَ ﴿۵﴾ وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمْ اَعْدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمْ کٰفِرِیۡنَ ﴿۶﴾
اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو خدا کے سوا انہیں پکارے جو اس کی قیامت تک نہ سنے او رانہیں اسی کی پکار (پوجا) کی خبر تک نہیں او رجب لوگو ں کا حشر ہوگا تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت کے منکرہوجائیں گے ۔(پ26،الاحقاف:5۔6)
اس آیت میں صاف طو رپر پکارنے کو عبادت فرمایا کہ قیامت میں یہ بت ان مشرکوں کی عبادت یعنی اس پکار کے منکر ہوجائیں گے معلوم ہوا کہ پکارنے سے وہی پکارنا مراد ہے جو عبادت ہے ،یعنی ''اِلٰہ'' سمجھ کر پکارنا۔اس لئے عام مفسرین ممانعت کی آیات میں ''دعا'' کے معنی ''پوجا'' کرتے ہیں۔ جن وہابیوں نے ممانعت کی آیتو ں میں دعا کے معنی پکار کئے اور پھر بات بنانے کے لئے اپنے گھر سے قیدیں لگائیں کہ پکارنے سے مراد ہے دور سے پکارنا، مافوق الاسباب پکارسننے کے عقیدے