Brailvi Books

علمُ القرآن
32 - 244
سے پکارنایا مردوں کو پکارنا بالکل غلط ہے۔ اولاً تو اس لئے کہ یہ قیدیں قرآن نے کہیں نہیں لگائیں ۔ دو سرے اس لئے کہ یہ تفسیر خود قرآنی تفسیر کے خلاف ہے ۔ تیسرے اس لئے کہ انبیاء کرام علیہم السلام صحابہ عظام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے مردہ کو بھی پکارا ہے اور دور سے سینکڑو ں میل سے پکارا ہے اور وہ پکار سنی گئی ہے جیسا کہ باب مسائل قرآنیہ میں بیان ہوگا ۔لہٰذا یہ تفسیر باطل ہے ۔

    تفسیر قرآن بالقرآن کی اور مثال سمجھو کہ رب تعالیٰ نے جگہ جگہ خداکے سوا کو ولی ماننے سے منع فرمایا بلکہ فرمایا کہ جو کوئی غیر خدا کو ولی بنائے وہ گمراہ ہے، کافر ہے، مشرک ہے۔ فرماتا ہے :
وَمَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾
تمہارا خدا کے سوا نہ کوئی ولی ہے اور نہ مدد گار۔(پ۲۰،العنکبوت:۲۲)
مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنۡکَبُوۡتِ  ۖۚ اِتَّخَذَتْ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الْعَنۡکَبُوۡتِ ۘ
ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور ولی بنائے مکڑی کی سی ہے جس نے جالا بنا اور بے شک سب گھر و ں سے کمزور گھر مکڑی کا ہے ۔(پ20،العنکبوت:41)

پھر فرماتا ہے :
اَفَحَسِبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنۡ یَّتَّخِذُوۡا عِبَادِیۡ مِنۡ دُوۡنِیۡۤ اَوْلِیَآءَ ؕ اِنَّـاۤ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیۡنَ نُزُلًا
تو کیا سمجھ رکھا ہے ان کافروں نے جنہوں نے میرے بندوں کو میرے سوا ولی بنایا ہم نے کافر وں کیلئے آگ تیار کی ہوئی ہے۔﴿102﴾ (پ16،الکہف:102)
Flag Counter