وَالَّذِیۡنَ تَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمْلِکُوۡنَ مِنۡ قِطْمِیۡرٍ ﴿ؕ۱۳﴾
تم خدا کے سوا جسے پکارتے ہو وہ چھلکے کے بھی مالک نہیں۔(پ۲۲،فاطر:۱۳)
اس قسم کی بیسیوں آیات ہیں جن میں غیر خدا کو پکارنے سے منع فرمایا گیا بلکہ پکارنے والوں کو مشرک کہا گیا اگر ان آیتوں کو مطلق رکھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ حاضر، غائب ، زندہ ، مردہ ، کسی کو نہ پکارو لیکن یہ معنی خودقرآن کی دو سری آیات کے بھی خلاف ہیں اور عقل کے بھی۔ خود قرآن کریم نے فرمایا :اُدْعُوْہُمْ لِاٰ بَآئِہِمْ
انہیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارا کرو۔(پ۲۱،الاحزاب:۵)
وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْ اُخْرٰکُمْ
اور رسول تم کو پچھلی جماعت میں پکارتے تھے۔(پ۴،اٰل عمران:۱۵۳)
ثُمَّ ادْعُہُنَّ یَاۡتِیۡنَکَ سَعْیًا ؕ
اے ابراہیم پھر ان ذبح کئے ہوئے مردہ جانوروں کو پکارو وہ تم تک دوڑتے آئیں گے۔ (پ۳،البقرۃ:۲۶۰)
اس قسم کی بیسیوں آیتیں ہیں جن میں زندوں اور مردوں کے پکارنے کا ذکر ہے ۔ نیز ہم دن رات ایک دوسرے کو پکارتے ہیں ۔ نماز میں بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر سلام عرض کرتے ہیں ۔'' اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ،''
اے نبی تم پر سلام اور اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں۔
لہٰذا ضرورت پڑی کہ ہم قرآن شریف سے ہی پوچھیں کہ ممانعت کی آیتو ں میں پکارنے سے کیا مراد ہے تو قرآن شریف نے اس کی تفسیر یوں فرمائی۔وَمَنۡ یَّدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ