| علمُ القرآن |
یہ میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو دوسرے راستوں کی پیروی نہ کرو۔ (پ8،الانعام:153)
مگر ان آیات میں نہ بتایا کہ سیدھا راستہ کونسا ہے ہم نے قرآن سے پوچھا تو اس نے اس کی تفسیر کی ہے ۔اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ
ہمیں سیدھے راستہ کی ہدایت دے ۔ ان لوگو ں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا ۔(پ1،الفاتحۃ:5۔6)
اس آیت نے بتایا کہ قرآن میں جہاں کہیں سیدھا راستہ بولاگیا ہے اس سے وہ دین اور وہ مذہب مراد ہے جو اولیاء اللہ، علماء دین،صالحین کا مذہب ہو یعنی مذہب اہل سنت، نئے دین ومذہب ٹیڑھے راستہ ہیں اگر چہ اس مذہب کے بانی سارا قرآن ہی پڑھ کر ثابت کریں کہ یہ مذہب سچا ہے جیسے قادیانی ، دیوبندی ، شیعہ وغیرہ ، اسی طرح قرآن شریف نے جگہ جگہ غیر اللہ کو پکارنے سے منع فرمایا اور پکارنے والے پر کفر و شرک کا فتوی دے دیا ۔وَلَا تَدْعُ مِنۡ دُوۡنِ اللہِ مَا لَایَنۡفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اورخدا کے سوا کسی ایسے کو نہ پکارو جو نہ تمہیں نفع دے او رنہ نقصان پھر اگر تم نے ایسا کیا تو تم ظالموں میں سے ہوگے ۔(پ۱۱،یونس:۱۰۶)
وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ
اس سے بڑھ کر گمراہ کو ن ہے جو غیر خدا کو پکارتے ہیں۔ (پ۲۶،الاحقاف:۵)