| علمُ القرآن |
ایک مضمون کچھ اجمال کے ساتھ بیان ہوا ہو اور ایک آیت میں اس کی تفصیل کردی گئی ہو تو یہ آیت ان پچاس آیتو ں کی تفسیر ہوگی اور ان پچاس کا وہی مطلب ہوگا جو اس آیت نے بیان کیا ۔ مثال سمجھو رب تعالیٰ نے بہت جگہ اہل کتاب کو مخاطب فرمایا ہے یا ان کا ذکر کیا ہے ۔
قُلْ یٰۤاَہۡلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآءٍۭ بَیۡنَنَا وَبَیۡنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللہَ
فرمادو کہ اے کتاب والو آؤ ایسے کلمہ کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کو نہ پوجیں۔ (پ3،آل عمرٰن:64)
اہل کتاب کا ذکر بہت جگہ ہے مگر پتا یہ نہ لگتا تھا کہ کتاب سے کونسی کتاب مراد ہے اور اہل کتاب کون لوگ ہیں کیونکہ قرآن کو بھی کتاب کہا گیا ہے اور باقی تمام انسانی اور رحمانی کتابوں کو بھی کتاب کہتے ہیں ۔ہم نے قرآن سے اس کی تفسیر پوچھی تو خود قرآن نے فرمایا :الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ مِنۡ قَبْلِکُمْ
وہ لوگ جوتم سے پہلے کتاب دیئے گئے (پ4،اٰل عمرٰن:186)
اس آیت نے ان تمام آیتو ں کی تفسیر فرمادی او ربتادیا کہ اہل کتاب نہ ہندو ، سکھ ہیں کہ ان کے پاس آسمانی کتاب ہی نہیں۔ نہ مسلمان مراد ہیں کیونکہ اس کتاب سے پہلی آسمانی کتابیں مراد ہیں صرف عیسائی،یہودی یعنی انجیل وتوریت کے ماننے والے مراد ہیں اسی طر ح قرآن شریف نے جگہ جگہ صراط مستقیم یعنی سیدھا راستہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔