Brailvi Books

علمُ القرآن
240 - 244
    ان آیتو ں سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ تمام انسان اور حیوانات کی پیدائش کا قانون یہ ہے کہ اس کی پیدائش نطفے سے ہو ۔ دوسرے یہ کہ خدا کے قانون میں تبدیلی ناممکن ہے اگر عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بغیر باپ مانی جائے توان آیات کے خلاف ہوگا ۔

    جواب: اس اعتراض کے دو جواب ہیں ایک الزامی ، دوسرا تحقیقی ۔

    الزامی جواب تو یہ ہے کہ آدم علیہ السلام بغیر نطفے کے پیدا ہوئے ہمارے سروں میں جوئیں ، چارپائی میں کھٹمل ، پیٹ اور زخم میں کیڑے بغیر نطفے کے دن رات پیدا ہوتے ہیں ، برسات میں کیڑے، پھل میں جانور بغیر نطفے کے پیدا ہوتے ہیں بتا ؤ یہ قانون کے خلاف کیوں ہوا ۔

     تحقیقی جواب یہ ہے کہ معجزات اور کرامات اولیاء خود قانون الٰہی ہیں یعنی رب تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ نبی اور ولی پر حیرت انگیز باتیں ظاہر ہو ں تو آپ کا بغیر باپ کے پیدا ہونا اس معجزے کے قانون کے ماتحت ہے تمہاری پیش کردہ آیات کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق خدا کے قانون میں تبدیلی نہیں کرسکتی اگر خالق خود کرے تو وہ قادر ہے ۔ انسان کی پیدائش نطفے سے ہونا قانون ہے اور عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر نطفے کے ہونا قدرت ہے ہم قانون کو بھی مانتے ہیں او رقدرت کو بھی،رب تعالیٰ قانون کا پابند نہیں ہم پابند ہیں ۔

     دیکھو قانون یہ ہے کہ آگ جلادے مگر ابراہیم علیہ السلام کو نہ جلایا یہ قدرت ہے۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے :