| علمُ القرآن |
اور بڑھاپے میں کلام کرنا اس لئے معجزہ ہے کہ آپ بڑھاپے سے پہلے آسمان پرگئے اور وہاں سے آکربوڑھے ہو کر کلام کریں گے ۔
ان آیات مذکورہ بالا سے روز روشن کی طرح آپکا بغیر باپ کے پیدا ہونا ظاہر ہوا ۔
اعتراض: اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ انسا ن بلکہ سارے حیوانات کو نطفے سے پیدا فرمادے او رقانون کی مخالفت ناممکن ہے لہذا عیسیٰ علیہ السلام کا خلاف قانون پیدا ہونا غیر ممکن ہے ۔رب تعالیٰ صاف فرما رہاہے :(1) اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ٭ۖ نَّبْتَلِیۡہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿ۚ ۲﴾
بے شک ہم نے پیدا کیا انسان کو ماں باپ کے مخلوط نطفے سے کہ ہم اسے آزمائیں پس ہم نے اسے سننے دیکھنے والا بنادیا ۔(پ29،الدہر:2)
(2) وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَہٗ نَسَبًا وَّ صِہۡرًا ؕ
اور وہی ہے جس نے پانی سے بنایا آدمی پھر اس کے رشتے اور سسرال مقرر کردی۔(پ19،الفرقان:54)
(3) وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤْمِنُوۡنَ ﴿۳۰﴾
اورہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے ۔(پ17،الانبیآء:30)
(4) فَلَنۡ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللہِ تَبْدِیۡلًا ۬ۚ
اور تم ہر گز اللہ کے قانون کو بدلتا ہوا نہ پاؤگے ۔(پ22،فاطر:43)
(5) وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیۡلًا ﴿٪۷۷﴾
اور تم ہمارا قانون بدلتا ہوا نہ پاؤگے ۔(پ15،بنیۤ اسرآء یل:77)