| علمُ القرآن |
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں ہی گویائی دی اور آپ علیہ السلام نے خود اپنی ماں کی پاکدامنی اور رب تعالیٰ کی قدرت بیان فرمائی اگر آپ کی پیدائش باپ سے ہے تو اس معجزے اور گواہی کی ضرورت نہ تھی۔
(5) اِنَّمَا الْمَسِیۡحُ عِیۡسٰی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوۡلُ اللہِ وَکَلِمَتُہٗ ۚ اَلْقٰىہَاۤ اِلٰی مَرْیَمَ وَرُوۡحٌ مِّنْہُ
عیسیٰ مریم کا بیٹا اللہ کا رسول ہی ہے اور اس کا ایک کلمہ کہ مریم کی طرف بھیجا اور رب کی طر ف سے ایک روح۔(پ6،النسآء:171)
اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کو مریم کا بیٹا فرمایا حالانکہ اولاد کی نسبت باپ کی طر ف ہوتی ہے نہ کہ ماں کی طرف آپ کا اگر والد ہوتا تو آپ کی نسبت اسی کی طرف ہونی چاہیے تھی نیز قرآن کریم نے کسی عورت کانام نہ لیا اور نہ کسی کی پیدائش کا واقعہ اس قدر تفصیل سے بیان فرمایا چونکہ آپ کی پیدائش عجیب طر ح صرف ماں سے ہے لہذا ان بی بی کا نام بھی لیا اور واقعہ پیدائش پورے ایک رکوع میں بیان فرمایا ،نیز انہیں کلمۃ اللہ اور اللہ کی روح فرمایا، معلوم ہوا کہ آپ کی پیدائش ایک کلمہ سے ہے اور آپ کی روح مافوق الاسباب آئی ہے ۔(6) وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَہۡدِ وَکَہۡلًا وَّمِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۴۶﴾
عیسیٰ کلام کریں گے لوگوں سے پالنے سے اور پکی عمرمیں اور خاص نیکوں میں ہوں گے ۔(پ3،اٰل عمرٰن:46)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی خصوصیت بچپن اوربڑھاپے میں کلام کرنا ہے بچپن میں کلام کرنا تو اس لئے معجزہ ہے کہ بچے اتنی عمر میں بولا نہیں کرتے