| علمُ القرآن |
(2) قَالَتْ اَنّٰی یَکُوۡنُ لِیۡ غُلٰمٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیۡ بَشَرٌ قَالَ کَذٰلِکِ ۚ قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ ۚ وَ لِنَجْعَلَہٗۤ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَ رَحْمَۃً مِّنَّا ۚ
مریم نے جبریل سے کہا کہ میرے بیٹا کیسے ہوسکتا ہے مجھے تو کسی مردنے چھوا بھی نہیں
فرمایا ایسے ہی ہوگا تمہارے رب نے فرمایا کہ یہ کام مجھ پر آسان ہے اور تا کہ بنائیں ہم اس بچہ کو لوگوں کے لئے نشان اور اپنی طرف سے رحمت۔(پ16، مریم :20)(پ16،مریم:21)
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ حضرت مریم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیٹا ملنے کی خبر پر حیرت کی کہ بغیر مرد کے بیٹا کیسے پیدا ہوگا اور انہیں رب کی طرف سے جواب ملا کہ اس بچہ سے رب تعالیٰ کی قدرت کا اظہار مقصود ہے لہذا ایسے ہی بغیر باپ کے ہوگا، اگر آپ کی پیدائش معمول کے مطابق تھی تو تعجب کے کیا معنی اور رب تعالیٰ کی نشانی کیسی؟(3) فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ ؕ قَالُوۡا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَیْـًٔا فَرِیًّا ﴿۲۷﴾
تو انہیں گود میں اپنی قوم کے پاس لائیں بولے اے مریم تو نے بہت بری بات کی۔(پ16،مریم:27)
معلوم ہواکہ عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش پر لوگوں نے حضرت مریم کو بہتان لگایا اگر آپ خاوند والی ہوتیں تو اس بہتان کی کیا وجہ ہوتی ۔(4) فَاَشَارَتْ اِلَیۡہِ ؕ قَالُوۡا کَیۡفَ نُکَلِّمُ مَنۡ کَانَ فِی الْمَہۡدِ صَبِیًّا ﴿۲۹﴾قَالَ اِنِّیۡ عَبْدُ اللہِ ؕ۟
پھر مریم نے بچہ کی طرف اشارہ کر دیا وہ بولے ہم کیسے بات کریں اس سے جو پالنے میں بچہ ہے بچہ نے فرمایا میں اللہ کا بندہ ہوں ۔(پ16،مریم:29۔30)