ان دوآیتوں میں مسلمانوں سے دوشرطوں پر چند وعدے کئے گئے ہیں شرطیں ایمان اورتقویٰ کی ہیں ان سے وعدہ ہے۔(۱)بلندی(۲)خلافت دنیا(۳)خوف کے بعد امن بخشنا (۴) دین کو مضبوط کرنا۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کو بلندی بھی دی زمین میں خلافت بھی بخشی، امن بھی عطا کیا اوران کے زمانہ میں دین کو ایسا مضبوط فرمایا کہ آج اس مضبوطی کی وجہ سے اسلام قائم ہے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دونوں شرطیں بھی پوری کیں اور مومن بھی رہے اور پرہیز گار متقی بھی، ورنہ انہیں یہ چار نعمتیں نہ دی جاتیں۔
یہ چند آیات بطور نمونہ پیش کی گئیں ورنہ قرآن کریم کی بہت سی آیات ان حضرات کے فضائل میں ہیں اور کیوں نہ ہوں یہ حضرات نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کمال کا مظہر ہیں جیسے حضو ر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی ذات رب تعالیٰ کے کمال کا نمونہ ہے جیسے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص رب تعالیٰ کے کمال کا انکار ہے ایسے ہی ان کاانکار حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے کمال کا انکار ہے استاد کا زور علمی شاگردو ں کی لیاقت سے معلوم ہوتا ہے۔ اگر صف اول کی نماز فاسد ہو تو پچھلی صفوں کی نماز درست نہیں ہوسکتی کیونکہ اما م کو دیکھنے والی صف اول ہی ہے، اگر انجن کے پیچھے والا ڈبہ انجن سے کٹ کر رہ جائے تو پچھلے ڈبے کبھی سفر نہیں کرسکتے ، وہ حضرات اسلام کی صف اول ہیں اور ہم آخری صفیں وہ گاڑی کا اگلا ڈبہ ہم پچھلے ۔اگر وہ ایمان سے ر ہ گئے تو ہم کیسے مومن ہوسکتے ہیں؟
اعتراض: ان آیتوں کے نزول کے وقت تو یہ سب مومن تھے مگر حضور صلی اللہ