Brailvi Books

علمُ القرآن
234 - 244
تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کا حق چھین کر اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی میراث تقسیم نہ کرنے کی وجہ سے اسلام سے نکل گئے یہ آیات اسوقت کی ہیں بعد سے انہیں کوئی تعلق نہیں۔

     جواب: اس اعتراض کے چند جواب ہیں

    ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اگر خلفاء راشدین کاانجام اچھا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے فضائل قرآن شریف میں بیان نہ فرماتا نیز رب تعالیٰ نے ان مذکورہ آیتو ں میں خبر دی کہ یہ دوزخ سے بہت دور رہیں گے، ہم انہیں اتنا دیں گے کہ وہ راضی ہوجاویں گے ہم نے ان سب سے جنت کا وعدہ کرلیا۔ یہ باتیں انجام بخیر سے ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔

    دوسرے یہ کہ اگر یہ حضرات ایمان سے پھر گئے ہوتے تو اہلبیت اطہار خصوصاً حضرت علی مر تضی رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کے ہاتھ پر بیعت نہ کرتے خلیفہ رسول وہ ہوسکتا ہے جو مومن متقی ہوبلکہ جیسے حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صفین میں جنگ کی اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کر بلا میں جان دے دی مگر یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہ دیا ،اس وقت بھی وہ جنگ کرتے ۔

    تیسرے یہ کہ جیسے صدیق اکبر وفاروق اعظم وعثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بعد ان کی خلافتیں میراث کے طور پر ان کی اولاد کو نہ ملیں بلکہ جس پر سب کااتفاق ہوگیا وہ خلیفہ ہوگیا اسی طر ح نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خلافت میں نہ میراث تھی نہ کسی کی ملکیت بلکہ رائے عامہ پر ہی انتخاب ہوا ۔