| علمُ القرآن |
ابو بکر دومیں کے دوسرے ہیں جبکہ وہ غار میں ہیں جب فرماتے تھے رسول اپنے ساتھی سے غم نہ کر ۔(پ10،التوبۃ:40)
یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں اتری، اس میں اس واقعہ کا ذکر ہے کہ جب غار میں یار کولے کر بیٹھے اورمارسے اپنے کو کٹوایا ۔ اس آیت نے ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صحابیت کا صراحۃً اعلان فرمایا ، ان کی صحابیت ایسی ہی قطعی اور یقینی ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت او رنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کیونکہ جس قرآن نے تو حید ورسالت کا صراحۃً اعلان کیا ،اسی قرآن نے صدیق کی صحابیت کا ڈنکا بجایا لہذا ان کی صحابیت وعدالت پر ایمان لانا ایساہی ضروری ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لانااور ان کی صحابیت کا منکر ایسا ہی بے دین ہے جیسے توحید ونبوت کامنکر ۔(13) وَلَا تَہِنُوۡا وَلَا تَحْزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعْلَوْنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۳۹﴾
نہ سست پڑو تم لوگ نہ غمگین ہو اورتم ہی بلند ہو اگر تم سچے مومن ہو۔(پ4،اٰل عمران:139)
(14) وَعَدَ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمۡ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِہِمْ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا ؕ
اللہ نے وعدہ دیا ان کو جو تم میں سے ایمان لائے او راچھے کام کئے ضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسی ان سے پہلوں کو دی اور ضرور جمادے گا ان کے لئے ان کا وہ دین جو ان کیلئے پسند کیااور ضرور ان کے اگلے خوف کو امن سے بدل دے گا ۔(پ18،النور:55)