Brailvi Books

علمُ القرآن
231 - 244
بہت ہی قرب ہے ۔
(9) یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسْبُکَ اللہُ وَمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ
اے نبی آپ کو اللہ اور آپ کی پیروی کرنے والے یہ مومن کافی ہیں۔(پ10،الانفال:64)

    یہ آیت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے پر نازل ہوئی جس میں فرمایاگیا کہ حقیقتاً آپ کو اللہ کافی ہے اور عالم اسباب میں عمر کافی ہیں۔
(10)وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ
جو صحابہ ان نبی کے ساتھی ہیں وہ کافروں پر سخت ،آپس میں نرم ہیں۔(پ26،الفتح:29)
(11) ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِی التَّوْرٰىۃِ ۚۖۛ وَ مَثَلُہُمْ فِی الْاِنۡجِیۡلِ  ۚ۟ۛ کَزَرْعٍ اَخْرَجَ شَطْاَہٗ فَاٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوۡقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیۡظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ ؕ
یہ جماعت صحابہ وہ ہیں جن کی مثال تو ریت وانجیل میں اس کھیت سے دی گئی ہے جس نے اپنا پٹھا نکالا... (یہاں تک کہ فرمایا)تاکہ ان سے کافروں کے دل جلیں۔(پ26،الفتح:29)

    اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تمہارے صحابہ کے نام کے ڈنکے ہم نے توریت وانجیل میں بجادیئے وہ تو میری ہر ی بھری کھیتی ہیں جنہیں دیکھ کر میں تو خوش ہوتا ہوں اور میرے دشمن رافضی جلتے ہیں۔

     لطیفہ : قرآن کریم نے بعض لوگو ں پر صاف صاف فتویٰ کفر دیا ایک تو نبی کی توہین کرنے والے ، اور دوسرے صحابہ کرام کے دشمن،صحابہ کرام کے دشمنوں پر رب تعالیٰ نے کفر کافتویٰ دیا کسی اور سے نہ دلوایا ۔
Flag Counter