Brailvi Books

علمُ القرآن
230 - 244
اعظم یعنی بہت ہی بڑا فرمایا ۔
(7) وَ سَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی ﴿ۙ۱۷﴾الَّذِیۡ یُؤْتِیۡ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی ﴿ۚ۱۸﴾وَ مَا لِاَحَدٍ عِنۡدَہٗ مِنۡ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰۤی ﴿ۙ۱۹﴾اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی ﴿ۚ۲۰﴾وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی ﴿٪۲۱﴾
اور دو زخ سے بہت دور رکھا جائے گا وہ سب سے بڑا پرہیز گار جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ ستھرا ہو اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جاوے صرف اپنے رب کی رضا چاہتاہے اوربے شک قریب ہے کہ وہ راضی ہوگا ۔(پ30،اللیل:17۔21)

یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں نازل ہوئی جب آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھاری قیمت دے کر خریدا اور آزاد کیا،کفار نے حیرت سے کہا کہ شاید حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آپ پر کوئی احسان ہوگا جس کا بدلہ ادا کرنے کے لئے آپ نے اتنی بڑی قیمت سے خرید کر آزاد کیا۔ ان کفار کی تردید میں یہ آیت نازل ہوئی اس میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسب ذیل خصوصی صفات بیان ہوئے :

ان کا دوزخ سے بہت دور رہنا ،ان کا سب سے بڑا متقی ہونا یعنی اتقی، ان کابے مثل سخی ہونا، ان کے اعمال طیبہ طاہرہ کاریا سے پاک ہونا خالص رب عزوجل کے لیے ہونا اور جنت میں انہیں رب تعالیٰ کی طر ف سے ایسی نعمتیں ملنا جس سے وہ راضی ہوجاویں۔

لطیفہ: اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے لئے فرمایا
وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ؕ﴿۵﴾
آپ کو آپ کا رب اتنا دے گا کہ آپ راضی ہوجاویں گے۔(الضحٰی:۵)   اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے فرمایا
وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی ﴿٪۲۱﴾
عنقریب صدیق راضی ہوجاویں گے۔(اللیل:۲۱)  معلوم ہوا کہ آپ کو نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے
Flag Counter